جامعہ کے قیام کاپس منظر
یونیورسٹی کی اصل بنیاد مذکورہ اسلامیہ کالج شانتا پرم ہے جس کا قیام ممتاز عالم دین مجاہد مخلص اور کیرالا میں تحریک اسلامی کے سالار اول مولانا محمد علی کے ہاتھوں عمل میں آیا جس کا مقصد دینی اور عصری تعلیم کے ہتھیاروں سے مسلح با صلاحیت علماء اور دعاۃ تیار کرنا تھا۔گذشتہ برسوں میں علماء کے۳۶ دُفعے(batches ) اس کالج سے فراغت پا کر اندرون اور بیرون ملک اصلاح اور دعوت کے مختلف میدانوں میں جلیل القدر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
حلقۂ خواتین میں دعوتی کاموں کے خلا کو پر کرنے کے لیے ۱۹۸۰ء میں اسلامیہ کالج نسواں کا قیام عمل میں آیا۔ تا حال ۱۵ دُفعے (batches ) اس کالج سے نکل چکے ہیں۔ اور سینکڑوں فراغت یافتہ خواتین، لڑکیوں کی تعلیم و تربیت نیز حلقۂ خواتین میں دعوت اسلامی کے فیلڈ میں اپنا سر گرم کردار ادا کر رہی ہیں۔
۱۹۹۰ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے دعوہ کالج کا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد دعوت اسلامی کے مختلف میدانوں ۔صحافت، خطابت ، مضمون نگاری ، ترجمہ و تالیف وغیرہ ۔کے لیے ماہرین تیار کئے جائیں۔ ۱۷ دُفعے اس کالج سے فارغ ہو کر دعوت اسلامی کے مختلف میدانوں میں سر گرم عمل ہیں اور ہندوستان میں تحریک اسلامی کی جدو جہد میں شریک ہو کر اپنا تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں۔
۱۹۹۳ء میں اصول الدین کالج کا افتتاح عمل میں آیا۔ جس کا مقصد ایسے با صلاحیت اور با کردار علماء کی تیاری ہے جو امت مسلمہ کی علمی، فکری ، رہنمائی اور قیادت کی اہلیت رکھتی ہیں۔
۲۰۰۰ء میں تحریک اسلامی کے قائدین نے ان تمام تحریکی اداروں کو ترقی دینے اور ان کی خدمات کو وسعت دینے کے لیے ایک اسلامی یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا جس میں مذکورہ بالا تمام کالجوں کے علاوہ شریعہ فیکلٹی ، قرآن فیکلٹی ، حدیث فیکلٹی، اسلامک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ سینٹر ، انفارمیشن ٹیکنا لوجی سینٹر ، اسلامی معاشیات انسٹی ٹیوٹ وغیرہ شامل ہیں۔
۲۰۰۱ء میں معھدالأئمۃ والخطباء کاقیام عمل میں آیا۔
ان پیش قدمیوں کے پیش نظر انتظامیہ نے یونیورسٹی کے افتتاح اور عوام الناس کے سامنے اعلان کا فیصلہ کیا۔ اللہ کے فضل و کرم سے ۲۰۰۳ء میں علامہ شیخ یوسف قرضاوی کے دست مبارک سے ہزاروں مسلم اور غیر مسلم عوام کے ایک بڑے جم غفیر کے روبہ رو یونیورسٹی کا افتتاح عمل میں آیا۔



